سری نگر،13؍اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی حکومت ایک نیا قانون لائے گی جس میں معصوم بچوں کی عصمت دری میں ملوث افراد کے لئے موت کی سزا لازمی ہوگی۔ تاکہ معصوم بچی کے بعد کوئی دوسری بچی درندگی کا شکار نہ بنے اور یہ اس نوعیت کا آخری واقعہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ بچی کی وحشیانہ عصمت دری اور قتل میں ملوث افراد ،جنہوں نے انسانیت کو شرمسار کرنے والا جرم انجام دیا ہے،کو سخت سے سخت اور مثالی سزا دلائیں گی۔مفتی نے ان باتوں کا اظہار مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے دو سلسلہ وار ٹویٹس میں کیا۔ انہوں نے کہا میں پوری قوم کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ میں نہ صرف بچی کو انصاف دلانے کے لئے وعدہ بند ہوں بلکہ میں اس دردناک واقعہ میں ملوث افراد ،جنہوں نے انسانیت کو شرمسار کرنے والا جرم انجام دیا ہے،کو سخت سے سخت اور مثالی سزا دلاوں گی۔ انہوں نے کہا ہم کبھی بھی دوسرے بچوں کو اس طرح کے حالات سے گزرنے نہیں دیں گے۔ہم ایک نیا قانون لائیں گے جس میں معصوم بچوں کی عصمت دری میں ملوث افراد کے لئے موت کی سزا لازمی ہوگی۔جموں کے ضلع کٹھوعہ کے تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گاؤں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی جو کہ گجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھتی تھی، کو 10 جنوری کو اُس وقت اغوا کر لیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نزدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔ کرائم برانچ پولیس نے گذشتہ روز واقعہ کے سبھی 8 ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا۔ کرائم برانچ نے اپنی تحقیقات میں کہا ہے کہ آٹھ سالہ بچی کو رسانہ اور اس سے ملحقہ گاؤں کے کچھ افراد نے عصمت ریزی کے بعد قتل کیا۔ تحقیقات کے مطابق بچی کے اغوا، عصمت دری اور سفاکانہ قتل کا مقصد علاقہ میں رہائش پذیر چند گوجر بکروال کنبوں کو ڈرانا دھمکانا اور ہجرت پر مجبور کرانا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ بچی کو اغوا کرنے کے بعد ایک مقامی مندر میں اسے قید کر کے رکھا گیا تھا جہاں اسے نشہ آور ادویات کھلائی گئیں اور قتل کرنے سے پہلے اسے مسلسل درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔